جعد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سائب بن یزید کو کہتے ہوئے سنا ہے : میری خالہ مجھے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں اور بولیں کہ اے اللہ کے رسول! میرا بھانجا بیمار ہے، تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ نے وضو کیا، تو میں نے آپ کے وضو كے پانی سے پیا اور پھر آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا، تو آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی، جو کبوتر کے انڈے کی مانند تھی۔ صحیح - متفق علیہ
explain-icon

شرح

سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ ان کی خالہ انھیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئی اور عرض کیا کہ ان کا بھانجا بیمار ہے، تو آپ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ نے وضو کیا، تو سائب رضی اللہ عنہ نے آپ کے اعضا سے ٹپکنے والے وضو کے پانی میں سے کچھ پیا اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے کھڑے ہوئے، تو آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی، جو کبوتر کے انڈے کی طرح تھی۔