اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابی عبداللہ بن سرجس کہتے ہيں کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا اور آپ کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا۔ ان کے شاگرد نے ان سے پوچھا کہ کیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ سلم نے آپ کے لیے مغفرت طلب کی ہے، تو کہا کہ ہاں! ساتھ ہی تمھارے لیے اور تمام ایمان والوں کے لیے بھی کی ہے، کیوںکہ اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے۔ ارشاد ہے : {وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} [محمد: 19] (اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے حق میں بھی)۔ پھر عبد اللہ بن سرجس نے ان کو بتلایا کہ وہ گھوم کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے آئے اور آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی، جو آپ کے بائیں مونڈھے کے اوپری حصے سے قریب بند مٹھی کی شکل کی تھی اور جس پر کچھ ابھرے ہوئے نشانات تھے جن کا رنگ پورے جسم کے رنگ سے الگ تھا۔ یاد رہے کہ عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ان لوگوں کی حدیثوں کی مخالف نہیں ہے، جنھوں نے مہر نبوت کو گنجلک بال کہا ہے یا کبوتر کے انڈے سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ ان سارے اوصاف کا ایک ساتھ اس میں پایا جانا ممکن ہے۔