اس حدیث میں چند ایسے احکام اورمعجزات بیان کیے گیے ہیں جو صحابہ کے سامنے ظاہر ہوئے تھے۔ واقعہ یوں ہے کہ صحابہ کرام ایک سفر پر تھے کہ ان پر نیند غالب آ گئی اور نمازِ فجر کا وقت نکل گیا۔ایسی حالت میں رسول اللہﷺ نے صحابہ کو جو چیزبتائی تھی وہ یہی تھی کہ قضاء نماز کو ادا کرنے میں جلدی کرنی چاہیے۔ اور دوسرا معاملہ یہ تھا کہ صحابہ میں سے کوئی جنبی بھی ہو گیا اور ان کے پاس پانی بھی نہیں تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو تیمم کا حکم دیا۔ تو اس سے یہ پتہ چلا کہ پانی کی غیر موجودگی میں تیمم غسل سے کفایت کر جاتا ہے۔ تیسرا معاملہ: آپ ﷺ کے معجزات میں سے ایک معجزہ تھا، ہوا یہ کہ لوگوں نے آپﷺ کے سامنے پیاس اور پانی کی غیر موجودگی کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے لوگوں کو پانی تلاش کرنے کے لیے بھیجا لیکن انہیں کہیں سے بھی پانی نہ ملا۔ انہیں ایک عورت ملی جس کے پاس پانی کے دو مشکیزے تھے تو وہ اس کو رسول اللہﷺ کے پاس لے آئے۔ آپﷺ نے اس سے ایک مشکیزہ پکڑا،اوراللہ تعالیٰ سے دعا کی یہاں تک کہ پانی بہہ پڑا، صحابہ نے خود بھی پانی پیا ،اپنے جانوروں کو بھی پلایا یہاں تک کہ جو شخص جنبی تھا اس نے بھی پانی لیا اورغسل کیا۔ اس عورت نے اپنا مشکیزہ پکڑا اوریہ کہنے لگی کہ یہ تو ویسے کا ویسے ہی بھرا ہے جیسے پہلے بھرا ہوا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کے لیے کھانے پینے کا سامان اکٹھا کروا کر بطور محنتانہ بھی دیا جس کی وجہ سے آگے چل کر وہ خود بھی مسلمان ہو گئی اور اس کا پورا قبیلہ بھی مسلمان ہو گیا۔