شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ نے خبر دی کہ عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کو انہیں وعظ ونصیحت کرتے تھے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا: ہم لوگ چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں ہر روز وعظ کیا کریں۔ انھوں نے جواب دیا: ایسا کرنے سے مجھے ایک ہی بات روکتی ہے کہ میں تمھیں اکتاہٹ اور بیزاری میں مبتلا کردوں۔ میں موقع و محل دیکھ کر تمھیں نصیحت کرتا ہوں جیسا کہ نبی ﷺ اس خیال سے کہ ہم اکتا نہ جائیں نصیحت کرنے میں وقت اور موقع کا لحاظ فرماتے تھے, کیوں کہ اکتاہٹ کے وقت وعظ کا کوئی فائدہ نہیں۔