آپ ﷺ نے آئے ہوئے مال کو کچھ لوگوں میں تقسیم کیا اور دوسروں کو چھوڑ دیا۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کاش کہ آپ ان کو دیتے جنہیں آپ نے نہیں دیا ہے اس لیے کہ وہ زیادہ حقدار تھے؟ آپ ﷺ نے ان سے کہا انہوں نے اپنے کمزور ایمان کی وجہ سے مجھ سے مانگنے میں اصرار کیا اور اپنی خستہ حالی کی وجہ سے مجھ سے بے جا چیز کا سوال کیا یا پھر یہ کہ وہ بُخل کی طرف میری نسبت کریں۔ چانچہ آپ ﷺ نے عطا کرنے کو اختیار کیا، اس لیے کہ آپ کے اخلاق میں بُخل نہیں، بلکہ خاطر مدارات اور تالیفِ قلوب کے واسطے آپ نے انہیں دے دیا۔