جو شخص ایک کھجور کی قیمت کے برابر حلال مال سے صدقہ کرتا ہے جس میں کوئی ملاوٹ اور دھوکہ دہی نہیں ہوتی اور اللہ تعالی قبول ہی حلال و پاکیزہ مال کو کرتا ہے، تو اللہ تعالی اس صدقے کو اپنے داہنے ہاتھ سے وصول کرتا ہے۔ بغیر کسی تاویل و تحریف کے اس کا ظاہری معنی ہی مراد لیا جائے گا جو اللہ تعالی کے شایانِ شان ہو۔ یعنی ’لیتا ہے‘ (ہی مُراد لیا جائے) جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے۔ پھر اسے اللہ بڑھاتا ہے اور اس کا ثواب کئی گنا زیادہ کر دیتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے گھوڑے کے بچے کو پالتا ہے یہاں تک کہ وہ بڑا ہوجاتا ہے۔