اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے أُبي رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو حکم دیا ہے کہ انہیں سورۂ بینۃ پڑھ کرسنائیں ۔ اس پر أبي بن کعب رضی اللہ عنہ کو تعجب لاحق ہوا کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے ؟ کیونکہ قاعدہ یہی ہے کہ مفضول (کم فضیلت والا ) زیادہ فضیلت والے کو پڑھ کر سنائے نہ کہ افضل (زیادہ فضیلت والا) مفضول کو پڑھ کرسنائے۔ جب رسول اللہ ﷺ سے پوچھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ اللہ تعالی نے ان کا نام لے کر ان کا ذکر کیا ہے تو وہ فرحت و خوشی سے رو پڑے کہ اللہ تعالی نے ان کا نام لیا ہے۔