اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ خادم یا غلام جب اپنے آقا کے لیے کھانا تیار کرے، تو مروت اور حسن سلوک کا تقاضا یہ ہے کہ آقا اسے اس کھانے کا کچھ حصہ کھانے کو دے، اسے بالکل محروم نہ رکھے۔ یہ مروت، شرافت اور حسن اخلاق کی بات نہیں ہوگی کہ جس نے اسے محنت سے تیار کرکے حاضر کیا، وہ اسے چکھنے سے رہ جائے۔ اس لیے اس کا دل رکھنے اور خواہش پوری کرنے کی خاطر کـچھ ضرور دینا چاہیے۔