حدیث میں کھانے کے معاملے میں ایک دوسرے سے ہمدردی کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اس بات کا بیان ہے کہ کھانا اگرچہ کم ہی کیوں نہ ہو یہ پورا آجاتا ہے اور اس میں ایسی برکت پیدا ہوجاتی ہے جس سے سب حاضرین بہرہ مند ہوتے ہیں۔ یہ نبی ﷺ کی طرف سے ایثار کی ترغیب ہے۔ یعنی اگر آپ اپنا کھانا لائیں جس کے بارے میں آپ کا خیال ہو کہ وہ آپ کے لیے کافی ہے اور اسی اثناء میں کوئی اور آدمی آجائے تو بخل سے کام نہ لیں کہ یوں سوچنے لگ جائیں کہ یہ صرف میرا کھانا ہے بلکہ اسے بھی اس کھانے میں شریک کرلیں جو دونوں کے لیے کافی ہوجائے گا۔