ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یمن سے ہجرت کرکے آیا، تو آپ نے پوچھا: "کیا یمن میں تمھارا کوئی ہے؟" اس نے جواب دیا: میرے والدین ہیں۔ پوچھا: "دونوں نے تمھیں اجازت دی ہے؟" جواب دیا: نہیں۔ فرمایا: "واپس جاکر دونوں سے اجازت مانگو۔ اگر دونوں اجازت دے دیں، تو جہاد میں شریک ہو سکتے ہو، ورنہ ان کی بات مانو اور ان کى خدمت میں لگے رہو"۔ یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
explain-icon

شرح

اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ ایک آدمی یمن سے آیا اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں شریک ہونے کی اجازت طلب کی، تو آپ نے اس کے والدین کے بارے میں پوچھا اور معلوم کیا کہ آیا اس نے ان سے جہاد میں شریک ہونے کی اجازت لی ہے یا نہیں، تو پتہ چلا کہ اس نے ان سے اجازت نہیں لی ہے۔ لہذا، آپ نے اسے حکم دیا کہ واپس جاکر ان کے ساتھ حسن سلوک کرے, ان کى فرمانبرداری کرے اور ان کی خدمت میں لگا رہے۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جہاد میں والدین کی اجازت کا اعتبار ہے۔