حديث اس بات پر دلادلت کر رہی ہے کہ اللہ رب العالمين کو سب سے پسنديدہ کلام اس کی تسبيح بيان کرنا (سُبْحَانَ اللَّهِ کہنا) ہے، اس ليے کہ تسبيح کا معنی اللہ رب العالمين كو ہر اس چيز سے منزه و پاک قرار دينا ہے جو اس کے ليے نا مناسب ہے، چاہے وہ اللہ کی شان ميں کوئی نقص ہو يا اللہ کو کسی مخلوق سے مشابہ اور مانند قراردينا ہو، يا اللہ کے ناموں ميں کج روی اختيار کرنا ہو۔ اور ’بِحَمْدِهِ‘ کہنے والے کا قول اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ تسبیح اللہ سبحانہ کی حمد کے ساتھ تھی،پس اس میں اسی کا احسان ہے۔ نیز اس کا يہ بھی مفہوم ہو سکتا ہے کہ: ميں اللہ کی توفيق دہی سے اس کی حمد وثنا کرتے ہوئے اس کی پاکی بيان کر رہا ہوں۔ اسی ليے ’سُبْحَانَ اللَّهِ ، وبِحَمْدِهِ‘ اللہ، رب العالمين کو بہت زيادہ محبوب ہے کیوں کہ اس ميں اللہ رب العالمين کی پاکی و تقدیس اور ہر طرح کے احسان کے ساتھ تعريف شامل ہے۔