یہ حدیث اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ مذکورہ صحابی اپنی بیوی سے بہت زیادہ صحبت کرنے والے تھے، رمضان آگیا اور انہیں خوف دامن گیر ہوا کہ کہیں وہ روزے کی حالت میں جماع نہ کر بیٹھیں، اس لیے انہوں نے بیوی سے ظہار کر لیا یعنی انہیں اپنی ماں، بہن اور بیٹی کے مشابہہ قرار دے کر اپنے اوپر دائمی حرام کر لیا، ایک رات وہ ان کی خدمت کر رہی تھیں کہ ان کی پنڈلی کا زیور ظاہر ہو گیا انہیں اچھا لگا اور وہ جماع کر بیٹھے، اپنے اس عمل سے وہ شرمندہ ہوئے اور نبی ﷺ کی خدمت میں مسئلہ دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوئے، تو نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ اپنی بیوی سے ظہار کرنے کی وجہ سے اللہ نے ان پر جو کفارہ واجب کیا ہے اسے پورا کیے بغیر دوبارہ جماع کے لیے اپنی بیوی کے قریب نہ ہوں، یہ حدیث ظہار کے باب میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔