صحابیٔ رسول سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ نے رمضان میں اپنی شدتِ شہوت کی وجہ سے اپنی بیوی کے ساتھ جماع کرنے سے رکنا چاہا۔ انھوں نے اس اندیشے کے تحت ان سے ظہار کر لیا کہ کہیں وہ اپنی بیوی کے ساتھ عملِ جماع میں مصروف ہوں اور فجر طلوع ہو جائے۔ مگر ایک رات انھوں نے جماع پر ابھارنے والی چیز دیکھی اور جماع کر بیٹھے اور اس گناہ کی زود اثری سے خائف ہو کر اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس چلیں اور اس مسئلے کا حکم دریافت کریں اور ان کا عذر پیش کریں۔ لوگوں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ اس لئے وہ خود گئے اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کیا۔ آپ ﷺ نے کہا کہ کیا واقعی تم نے یہ کام کیا ہے اور اس کے مرتکب ہوئے ہو؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں! تو نبی ﷺ نے اس مسئلے کے سلسلے میں اللہ کا حکم انھیں بتلایا کہ وہ ایک گردن آزاد کریں اور یہ نہ پائیں تو مسلسل دو ماہ کا روزہ رکھیں اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں۔ انھوں نے اپنی کمزور حالی، قلاشی، غلام آزاد کرنے اورکھانا کھلانے کی عدمِ ملکیت سے باخبر کیا، تو اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں اپنی قوم سے صدقہ لینے کا حکم دیا کہ وہ انہیں کھجور دیں تاکہ اسے اپنے ظہار کا کفارہ بنائیں اور اس میں سے جو بچ رہے اسے اپنے اہل و عیال کو کھلائیں۔