نبی ﷺ نے بالائی مکہ، بطحاء میں پڑاؤ فرمایا تھا۔ چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے وضو کے باقی ماندہ پانی کو لے کر باہر آئے تو لوگ اس سے برکت حاصل کرنا شروع کر دیے اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بلال رضی اللہ عنہ کے منہ کو دیکھنے لگا وہ ”حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ“ اور ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ کہتے ہوئے دائیں بائیں مڑ رہے تھے تاکہ سب لوگوں کو یہ سنائی دے سکے کیونکہ ان دونوں جملوں میں نمازکے لیے آنے کی ترغیب ہے۔ پھر نبی ﷺ کے لیے ایک چھوٹا سا نیزہ گاڑ دیا گیاتاکہ وہ آپ ﷺ کی نماز کے دوران سترہ کا کام دے۔ پھر آپ ﷺ نے ظہر کی دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ مسافر ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ جب تک مدینہ واپس نہیں آگئے تب تک چار رکعت والی نماز کو دو رکعت ہی پڑھتے رہے۔