ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی فاطمۃ بنت قیسرضی اللہ عنہا کو طلاقِ بتّہ دی، یہ ان کی طرف سے اپنی بیوی کو آخری طلاق تھی۔ اور مبتوتہ (جس عورت کو شوہر نے طلاقِ بتّۃ دی ہو) کے لیے شوہر پر نفقہ واجب نہیں ہوتا، پھر بھی ابوعمرو رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے جَو بھیجا، فاطمہ رضی اللہ عنہا کا خیال تھا کہ عدت کے دوران ابو عمرو پر ان کا نفقہ واجب ہے، اس لیے انہوں نے اس جَو کو کم سمجھا اور ناپسند کیا۔ وکیل نے قسم کھائی ہم پر آپ کا کوئی حق لازم نہیں ہے۔ چنانچہ انھوں نے اس کی شکایت رسول اللہ ﷺ سے کی تو آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ ابو عمرو پر تمہارا نہ تو نفقہ (خرچ) ہے اور نہ ہی رہائش کی ذمہ داری ہے، اور انہیں حکم دیا کہ وہ ام شریک کے گھر میں عدت گزاریں۔ جب نبی ﷺ کو یہ بات یاد آئی کہ ام شریک کے یہاں تو صحابہ کا آنا جانا لگا رہتا ہے تو انہیں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے یہاں عدت گزارنے کو کہا کیوں کہ وہ نابینا ہیں، ان کا اپنے کپڑے نکال رکھنے کو نہیں دیکھیں گے، اور انہیں یہ حکم دیا کہ عدت کے ختم ہوجانے پر آپ ﷺ کو خبر دیں۔ جب انھوں نے اپنی عدت گزار لی تو معاویہ اور اور ابو جہم رضی اللہ عنہما نے انھیں نکاح کا پیغام بھیجا چنانچہ انھوں نے نبی ﷺ سے اس کے متعلق مشورہ کیا۔ چوں کہ جس سے مشورہ لیا جائے اُسے مشورہ لینے کے حق میں خیر خواہ ہونا چاہیے اس لیے آپ ﷺ نے دونوں میں کسی سے بھی شادی کرنے کا مشورہ نہیں دیا اس لیے ابوجہم عورتوں پر بہت سخت گیر تھے اور معاویہ رضی اللہ عنہ فقیر تھے اُن کے پاس مال نہیں تھا، اس لیے آپ ﷺ نے انھیں اسامہ سے نکاح کرنے کا مشورہ دیا جسے پہلی دفعہ انھوں نے ناپسند کیا، اس لیے کہ اسامہ ایک آزاد کردہ غلام تھے، تاہم انھوں نے نبی ﷺ کا حکم مانتے ہوئے اس رشتے کو بالآخر منظور کر لیا، جس کی برکت کے نتیجہ میں (لوگ) ان پر رشک کرنے لگے، اور اللہ تعالی نے ان (کے نکاح) میں خیرِ کثیر رکھ دیا۔