مدینہ کے انصار میں سب سے زیادہ کھیت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے تھے۔ مسجد نبوی کے قبلہ والی جانب میں ان کا ایک باغ تھا جس کا پانی بہت میٹھا تھا۔ نبی ﷺ اس باغ میں تشریف لاتے اور وہاں سے پانی تناول فرمایا کرتے تھے۔ جب اللہ تعالی کا یہ فرمان نازل ہوا کہ: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ ”تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو“۔ تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ فوراً نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی ہے: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ اور اپنے اموال میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب بیرحاء کا باغ ہے۔ بیرحاء اس باغ کا نام تھا۔ میں اسے اللہ اور اس کے رسول کے واسطے بطور صدقہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ اس پر آپ ﷺ نے حیران ہوتے ہوئے فرمایا: بہت خوب۔ یہ بہت نفع بخش مال ہے۔ یہ بہت نفع بخش مال ہے۔ میری رائے میں تم اسے اپنے قریبی رشتے داروں میں تقسیم کر دو۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا اور اسے اپنے قریبی رشتے داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔