صلح حدیبیہ کے سال نبی ﷺ عمرہ کے ارادے سے نکلے۔ اہل مدینہ کا میقات یعنی ذو الحلیفہ،جو مدینہ کے قریب ہی واقع ہے، تک پہنچنے سے پہلے ہی آپ ﷺ تک یہ خبر پہنچی کہ ساحلِ سمندر کی طرف سے دشمن ان پر حملہ آور ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس لیے آپ ﷺنے اپنےصحابہ کے ایک گروہ کوجس میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے حکم دیا کہ وہ ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ داہنی طرف والا راستہ لے لیں تا کہ دشمن کو روک سکیں۔ چنانچہ وہ اس طرف چلے گیے۔ جب مقررہ وقت پر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے وہ واپس ہوئے تو سوائے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے سب نے احرام باندھ لیا۔ دورانِ سفر انھیں کچھ نیل گائیں نظر آئیں اور دل ہی دل میں انھوں نے چاہا کہ کاش ابوقتادہ اسے دیکھ لیں کیوں کہ وہ حالتِ احرام میں نہیں ہیں۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے جب نیل گایوں کو دیکھا تو ان پر حملہ آور ہوئے اور ایک مادہ نیل گائے کو شکار کر لیا اور سب نے اس کا گوشت کھایا۔ پھر انہیں کچھ شک لاحق ہوا کہ کیا حالت احرام میں ان کے لیے اسے کھانا جائز ہے یا نہیں؟ چنانچہ انھوں نے اس کے باقی ماندہ گوشت کو اپنے ہمراہ لیا یہاں تک کہ نبی ﷺ کے پاس آن پہنچے اور آپ ﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ کیا ان میں سے کسی نے ابو قتادہ کو شکار کرنے کو کہا تھا؟ یا پھر انھیں بتا کر یا اشارہ کر کےان کی مدد کی تھی؟ انھوں نے جواب دیا کہ ایسی کوئی بھی بات نہیں ہوئی۔ اس پر آپ ﷺ نے انھیں اطمئنان دلایا کہ یہ ان کے لیے حلال ہے بایں طور کہ آپ ﷺ نے اس کے باقی ماندہ گوشت کو بھی کھانے کا حکم دیا اور ان کی طیب خاطر کے لیے آپ ﷺ نے خود بھی اس کا گوشت تناول فرمایا۔