نبی ﷺ نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو حدیبیہ کے مقام پر حالت احرام میں دیکھا کہ بیماری کی وجہ سے جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی ہیں۔ نبی ﷺ کو ان کی یہ حالت دیکھ کر ان پر بہت ترس آیا اور آپ ﷺ نے فرمایا: میرا نہیں خیال تھا کہ تمھیں اس حد تک مشقت ہو رہی ہو گی، جس پر میں تمھیں اب دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: کیا تمھیں ایک بکری دستیاب ہو سکتی ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُم مَرِيضَاً أوْ به أذَىً مِنْ رَأسِه فَفِدْية مِنْ صِيَامٍ أوْ صَدَقَةٍ أوْ نُسُكٍ﴾ ”پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اسے سر میں تکلیف ہو، تو روزوں سے یا صدقہ سے یا قربانی سے فدیہ دے“۔ اس پر نبی ﷺ نے انھیں اختیار دیاکہ یا تو وہ تین دن کے روزے رکھیں یا چھ مسکینوں کا کھانا کھلا دیں، بایں طور کہ ہر مسکین کو نصف صاع گیہوں یا کوئی اور غلہ دیں۔ یہ ان کے حالت احرام میں سر میں جوئیں پڑنے کی وجہ سے مجبورا اسے منڈانے کا کفارہ ہو جائے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے انھیں تینوں کے مابین اختیار دیا کہ وہ کسی کو بھی کر لیں۔