بنو مخزوم کی ایک عورت تھی جو لوگوں کا سامان بہانہ بنا کر مستعار لیتی اور پھر اسے دینے سے انکار کردیتی ایک مرتبہ اس نے زیور مانگ کر لیا اور پھر اس کا انکار کردیا۔ (تفتیش پر) سامان اس کے پاس پایا گیا ،چناں چہ اس کا معاملہ نبی ﷺ تک پہنچا تو آپ نےاللہ تعالیٰ کے حد کو نافذ کرنے کا عزم کر لیا یعنی اس کے ہاتھ کو کاٹنے کا۔ وہ عورت شرف و منزلت والی تھی اور اس کا تعلق قریش کے ایک معزز گھرانے سے تھا۔ اس ناطے قریش اس عورت اور اس پر نافذ ہونے والے فیصلہ کے متعلق فکرمند ہوئے۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس عورت کے سلسلہ میں کس کو نبی ﷺ تک رسائی کا ذریعہ بنائیں اور وہ اس کے بچاؤ کے لئے آپ سے بات کرے، انہوں نے اسامہ بن زید سے زیادہ مناسب کسی کو نہیں پایا کیوں کہ وہ نبی ﷺ کے چہیتے ہیں۔ چناں چہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو آپ ﷺ غصہ ہو گئے اور اس بات پر اسامہ کی تنکیر کرتے ہوئے فرمایاکہ کیا تم اللہ کے حدود میں سے ایک حد کے سلسلہ میں مجھ سے سفارش کرتے ہو! پھر آپ ﷺ لوگوں کے بیچ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا تاکہ اس قسم کی سفارش کے نقصان کو لوگوں پر واضح کیا جا سکے جس کی وجہ سے اللہ کے حدود کے نفاذ میں رکاوٹ پیدا ہو، اور چوں کہ موضوع ان میں سے بہت سے لوگوں کے لئے اہمیت کا حامل تھا تو آپ نے لوگوں کو خبر دار کیا کہ تم سے پہلے کے لوگوں کی ہلاکت کی وجہ دینی اور دنیاوی اعتبار سے یہی تھی کہ وہ اللہ کے حدود کا نفاذ کمزور اور فقیر لوگوں پر کرتے تھے اور مالدار اور طاقتور لوگوں کو چھوڑ دیتے تھے، اس ناطے ان کے بیچ انارکی پھیل جاتی اور شر وفساد پھوٹ پڑتے اور وہ اللہ کے غضب اور اس کے عذاب کے حق دار بن جاتے۔ پھر آپ نے قسم کھائی -اور آپ صادق و مصدوق ہیں- کہ اگر یہ کام دونوں جہان کی عورتوں کی سردار، آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے سرزد ہوا ہوتا -اللہ انھیں اس سے محفوظ رکھے- تو آپ ﷺ ان پر بھی اللہ کا حکم نافذ کرتے۔