صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ مسجد میں سوئے ہوئے تھے اور ان کے جسم پر ایک کالے رنگ کی چوخانہ چادر پڑی ہوئی تھی۔ اسی بیچ ایک چور آیا اور سے جھپٹا مار کر لے بھاگا۔ پھر چور کو پکڑ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لایا گیا، تاکہ اس پر چوری کی حد جاری کی جا سکے۔ لیکن صفوان رضی اللہ عنہ کو اس پر رحم آ گیا، لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کیا آپ اس کا ہاتھ میری اس چادر کی وجہ سے کاٹ دیں گے، جس کی قیمت محض تیس درہم ہے؟ میں اسے یہ چادر ادھار بیچ دیتا ہوں اور قیمت وہ اپنی حالت بہتر ہونے پر ادا کر دے گا!! اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو تم نے اسے میرے پاس لائے جانے سے پہلے ہی معاف کیوں نہ کر دیا؟ کیونکہ حدود کے معاملے جب حاکم تک پہنچ جائیں، تو معاف کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔