اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دو الگ الگ ادیان کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے۔ چنانچہ مسلمان یہودی یا عیسائی کا وارث نہیں بنے گا اور اسی طرح یہ لوگ مسلمان کے وارث نہیں بن سکتے، کیونکہ یہاں ایک دوسرے کے وارث بننے کی ایک شرط یعنی اتحاد دین، مفقود ہے۔ لہذا، جہاں بھی دین الگ ہوگا، وہاں وارث بننے اور بنانے کی بات نہیں آئے گی۔ یہی جمہور فقہا کا قول ہے۔