اس حدیث کے ذریعے یہ بتا دیا گیا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے وارثین آپ کے انتقال کے بعد آپ کے مال میں سے بچے ہوئے دینار اور درہم بانٹ کر نہیں لیں گے۔ کیونکہ آپ ایک نبی تھے اور انبیا علیہم السلام دینار و درہم کا وارث نہیں بناتے۔ دراصل ان کا کام دنیا کے لیے کچھ جمع کرنا تھا ہی نہیں۔ ان کا مشن تھا مخلوق کو سیدھا راستہ دکھانا۔ لہذا اگر آپ کی موت کے بعد آپ کا کچھ مال رہ جائے، تو وہ آپ کی بیویوں اور آپ کے بعد بننے والے خلیفہ یا مسلمانوں کا نظم و نسق دیکھنے والے آدمی کے گزارے کے لیے ہے۔ اگر اس کے بعد بھی کچھ بچ جائے، تو وہ صدقہ ہے۔