انس بن مالک رضی اللہ عنہ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ جب آپ مکہ سے ہجرت کرکے آئے اور پہلی بار مدینے میں داخل ہوئے، تو اس کا ذرہ ذرہ روشن ہو گيا اور جس دن آپ فوت ہوئے، تو اس کا ذرہ ذرہ اندھیرے میں گم ہو گیا۔ یاد رہے کہ اس حدیث میں روشن ہونے اور تاریکی چھانے کی جو بات کہی گئی ہے، وہ حسی نہیں، بلکہ معنوی ہے۔ انھوں نے آگے بتایا کہ جب وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین سے فارغ ہوئے، تو اپنے دلوں کو, وحی کا سلسلہ بند ہونے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت کی برکت سے محرومی کی وجہ سے, اس سابقہ روشن وآباد حالت میں نہیں پایا، کہ جس حالت میں رسول صلی اللہ علیہ و سلم کى حیات مبارکہ میں, انوار ایمانی, رقت کے نظاروں اور آپسی میل محبت کے جلؤوں کى بنا پر, اپنے دلوں کو پاتے تھے۔