یہ حدیث یہ بتاتی ہے کہ کوئی حاکم جب کسی مسئلے پر اجتہاد کرنے کے بعد کسی نتیجے پر پہنچے اور سمجھے کہ اس مسئلے میں یہی حق ہے، پھر فیصلہ دے دے، تو اب اگر اس کا فیصلہ صحیح، حق کے موافق ہوا اور اللہ کی منشا کے مطابق ہوا، تو اسے دوہرا اجر ملے گا۔ ایک اجتہاد کرنے کا اجر اور دوسرا حق کے موافق فیصلہ کرنے کا اجر۔ لیکن اگر اجتہاد تو کرے، لیکن صحیح فیصلے تک پہنچ نہ سکے، تو اسے ایک ہی اجر ملے گا۔ یعنی صحیح فیصلے تک پہنچنے کے لیے اجتہاد کا اجر، کیوں کہ حق تک پہنچنے کے لیے اجتہادکرنا عبادت ہے۔ ہاں، اسے صحیح فیصلہ دینے کا ثواب نہیں ملے گا اور ساتھ ہی اجتہاد کے بعد صحیح فیصلہ نہ دے پانے کا گناہ بھی نہیں ہوگا۔ بس شرط یہ ہے کہ وہ جانکار ہو اور اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہو۔