اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ سب سے بہتر صدقہ وہ ہے کہ صدقہ کرنے والے کے اہل و عیال اس چیز کے محتاج نہ ہوں اور خرچ کرنے والا مقروض نہ ہو نیز خرچ کرنے والے پر واجب ہے کہ ان لوگوں سے صدقہ وخیرات دینے کی شروعات کرے جن کی وہ پرورش کرتاہے،، مثال کے طور پر جیسے اس کی بیوی اور اس کے لڑکے اور اس کی باندیاں ہیں۔ لہذا اس کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ ان پر خرچ کیے جانے والے اخراجات کو روکے اور دور والوں پر صدقہ وخیرات کرے اور رشتہ داروں کو چھوڑ دے جن کی پرورش اور نان ونفقہ کی ذمہ داری اس پر ہے۔