اس حديث میں عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایک انسان پر جن ماتحت لوگوں کا نان و نفقہ واجب ہو، ان کے بارے میں حساس رہنے کی کس قدر ضرورت ہے۔ جب ان کو معلوم ہوا کہ ان کے خزانچی نے غلاموں کو ان کا نفقہ نہیں دیا ہے، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث سنا دی، جس میں بتایا گیا ہے کہ بخل کی بنا پر ماتحت لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں لاپرواہی سے کام لینا اور ان کے نفقے کو روکنا گناہ میں واقع ہونے کے بڑے اسباب میں سے ایک ہے۔