صحابی جلیل طلق بن علی رضی اللہ عنہ اس حدیث میں اپنے فعل سے یہ بیان کر رہے ہیں کہ انھوں نے ایک دفعہ رات کے ابتدائی جصے میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ وتر پڑھا، پھر اپنی قوم کے لوگوں کو نماز پڑھائی، لیکن وتر نہیں پڑھایا، بلکہ وتر کے لیے کسی اور کو آگے کر دیا۔ انھوں نے ایسا اس لیے کیا تھا؛ کیوں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا کہ آپ نے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ کوئی آدمی ایک رات میں دو وترپڑھے۔