”اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا“ جب ’یَد‘ کا استعمال مطلقاً کہا جائے تو اس سے مراد ہتھیلی ہوتی ہے۔ اس کی تائید ابوداؤد اور نسائی کی وہ روایت کرتی ہے جس میں ہے ”ثم وضع يده اليُمنى على ظهر كفه اليُسرى والرُّسْغ والساعد“ یعنی پھر آپ نے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی، پہنچے اور کلائی پر رکھا۔ ’رسغ‘ ہتھیلی اور کلائی کے درمیان جوڑ کو کہتے ہیں۔ ”اپنے سینے پر“ یعنی نماز میں دورانِ قیام اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں پر اور پھر دونوں ہاتھوں کو سینے کے اوپر رکھا۔