یہ حدیث بیان کرتی ہے کہ جو اپنے اندر امامت کی اہلیت پائے اس کے لیے جائز ہے کہ وہ حاکمِ وقت سے اس کا مطالبہ کرے، یہ امارت کا مطالبہ نہیں، اس لیے کہ امارت کا مطالبہ کرنا ممنوع ہے۔ ہاں امام پر اپنے کمزور اور عاجز مقتدیوں کی رعایت کرنا ضروری ہے ورنہ معاملہ ان کے لیے مشکل ہوجائے گا۔ مؤذن کے لیے یہ بہتر ہے کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے اذان دے تاکہ اس کا یہ عمل اخلاص کے قریب ہو۔ اگر تبرعاً کوئی اذان دینے والا نہ ہو تو حاکمِ وقت کا بیت المال سے اس کے لیے وظیفہ جاری کرنا جائز ہے۔