اس صحابی نے نذر مانی تھی کہ وہ بات چيت اورکھانا پینا ترک کرديں گےِ, دھوپ میں کھڑے رہیں گے اور سا یہ نہيں حاصل كريں گے۔ چونکہ اس نذرمیں نفس کی ایذا رسانی اوراس کے لیے مشقت تھی، اور اس قسم کی نذر حرام ہے، اسی وجہ سے نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا، ليكن آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنا روزہ پورا کریں کیونکہ یہ ایک مشروع عبادت ہے۔ بنابریں جو شخص کسی مشروع عبادت کی نذر مانے تو اس کے لیے اسے انجام دینا ضروری ہے۔ نیزجو شخص کسی غیر شرعی عبادت کی نذر مانے تو اس کے لیے اس کا پورا کرنا لازم نہیں ہے۔