ابن عمر رضي اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: جب تم ميں سے کسی کی بيوی مسجد جانے کی اجازت طلب کرے تو وہ اسے نہ روکے، تاکہ وہ مسجد میں جماعت کی فضيلت سے محروم نہ رہے۔ اس حديث ميں عورت کے نماز کے لیے مسجد جانے کے جواز کا ثبوت ہے، اس حدیث کو بیان کرتے وقت اسی مجلس ميں عبد اللہ بن عمر کے صاحب زادے بلال بھی موجود تھے انھوں نے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے بڑھ کرعورتوں کی زيب و زينت میں توسّع کو دیکھ کر ان کی عصمت وعفت کی حفاظت کے پیش نظر - شارع پراعتراض کا قصد کئے بغیر- فرمایا: "اللہ کی قسم ہم انھيں ضرور منع کریں گے."، اس بات کو سن کر ان کے والد ابن عمر نے سمجھا کہ وہ اس تردید کے ذریعہ سنتِ رسول پر اعتراض کر رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ اللہ اور اس کے رسول کى خاطر بہت ناراض ہوئے اور انھيں بہت ہی برا بھلا کہا۔ اور فرمايا: ميں اللہ کے رسول صلی عليہ وسلم کی حديث بيان کر رہا ہوں اور تم کہہ رہے ہو کہ ہم انہیں ضرور روکیں گے؟