اس حدیث میں اس شخص کے لیے سخت وعید ہے، جو کسی مسلمان کا مال ناحق ضبط ہتھیا لے۔ اس کے لیے وہ ناجائز جھگڑے اور جھوٹی و گناہ آمیز قسم کا سہارا لے۔ ایسا شخص جب اللہ تعالیٰ سے ملے گا، تو اس پر اللہ ناراض ہوگا۔ اور جس پر اللہ کا غصہ اترا، وہ تباہ ہو گیا۔ پھر رسو ل اللہ ﷺ نے اس سخت وعید کی قرآن کریم سے تصدیق کے لیے یہ آیت کریمہ آخر تک تلاوت کی ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلً...﴾