explain-icon

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو اسے نماز دہرانے کا حکم دیا۔ کیوں کہ اس حالت میں نماز درست نہيں ہوتی۔

explain-icon

حدیث کے کچھ فوائد

  • با جماعت نماز کے لیے جلدی جانے، اس میں آگے رہنے اور اس بات کی ترغیب کہ کوئی صف کے پیچھے اکیلے نماز نہ پڑھے، تاکہ نماز باطل نہ ہو جائے۔
  • ابن حجر کہتے ہیں: جس نے صف کے پیچھے اکیلے نماز شروع کی اور اس کے بعد رکوع سے اٹھنے سے پہلے صف میں داخل ہو گیا، اس پر نماز دہرانا ضروری نہيں ہوگا۔ جیسا کہ ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے۔ بصورت ديگر وابصہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے عموم کی بنا پر دہرانا واجب ہوگا۔