جب نمازی اپنی نماز میں داخل ہو اور وہ اپنے سامنے لوگوں سے سترہ رکھے ہوئے ہو تاکہ لوگ اس کے آگے سے گزر کر اس کی نماز میں نقص نہ پیدا کریں اور جب وہ اپنے رب سے مناجات کرنے لگے۔پھر اس کے سامنے سے کوئی شخص گزرنے کی کوشش کرے تو اس کو اچھے طریقے سے روکے، اگر وہ آرام و سکون سے نہیں رکتا تو اس کی حرمت ختم ہوئی وہ سرکشی کرنے والا بن چکا او ر اب جائز ہے کہ اس کی سرکشی کو ہاتھ سے لڑائی کرکے روکا جائے، کیوں کہ اس کا یہ عمل ان شیطانی افعال میں سے ہے جن کے ذریعے وہ لوگوں کی عبادتوں کو خراب کرنا چاہتے ہیں، اور ان کی نمازوں میں تلبیس وشکوک پیدا کرتے ہیں۔