جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کے ليے کھڑا ہو تو سامنے بطورِ سترہ اونٹ کے کجاوہ (پالان) کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز رکھ لے اور يہ دوتہائی ہاتھ کے برابر ہو تی ہے۔ اگر وہ ايسا نہيں کرتا ہے تو اس کی نماز کو تين چيزوں ميں سے کوئی ايک توڑ دیتی ہے: عورت، ابوداؤد کی روایت میں عورت کے ساتھ حائضہ یعنی بالغہ کی قید لگائی گئی ہے، گدھا، اور سیاہ کتا۔ اگر کوئی نماز ميں اپنے سامنے سترہ رکھ لے تو سترہ کے پیچھے سے کسی کے گزرنے سے اس کی نماز باطل نہيں ہوگی گرچہ مذکورہ تینوں میں سے ہی کسی کی گزر کیوں نہ ہو۔ حدیث کے ایک راوی عبد اللہ بن صامت کہتے ہيں کہ میں نے کہا: اے ابوذر! سرخ و زرد کتے کے بالمقابل سیاہ کتے کی تخصیص کی کیا وجہ ہے؟ یعنی دیگر کتوں کے بجائے صرف اسی کتے کو نماز کے توڑنے کے ساتھ کیوں خاص کیا گیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اے بھیجتے! میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسا ہی سوال کیا جیسا تو نے مجھ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”سیاہ کتّا شیطان ہے“۔ نماز کو کاٹنے کا مطلب نماز کو باطل کرنا ہے، اور يہی فتویٰ مستقل کميٹی برائے افتاء (سعودی عرب) کے مفتیان نے بھی ديا ہے۔ جب کہ بعض علماء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ نماز خراب وباطل نہيں ہوتی بلکہ اس کا خشوع و خضوع ختم ہوجاتا ہے۔