ابو جہم نے آپ ﷺ کو ایک چادر ہدیہ کی تھی، اس میں مختلف رنگ اور نقوش تھے، آپ کے اچھے اخلاق میں سے یہ ہے کہ آپ ہدیہ دینے والے کی خوشى كے خاطر ہدیہ قبول کیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے اسے قبول کرکے اس میں نماز پڑھی، لیکن رنگدار اور نقش و نگار والی ہونے کی وجہ سے نماز میں اُس پر آپ ﷺ کی نظر پڑتی تھی جس نے آپ ﷺ کو نماز کی طرف کامل توجہ (مکمل انہماک) سے غافل کردیا۔اسی لیے آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس نقش ونگار والی چادر کو ہدیہ کرنے والے یعنی ابو جہم کو واپس لوٹا دیا جائے۔ ہدیہ واپس کرنے کی وجہ سے ابوجہم کے دل میں کچھ نہ آنے اور ان کے اطمینانِ قلب کی خاطر یہ حکم دیا کہ ابوجہم کی دوسری چادر لے آؤ جس میں مختلف رنگ اور نقش و نگار نہ ہوں۔