نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ مسلمان عنقریب عراق کو فتح کر لیں گے اور اہل عراق پر ناپ تول کی ایک معین مقدار بطور جزیہ لاگو کر دی جائے گی، جسے وہ مسلمانوں کو ادا کریں گے۔ لیکن قرب قیامت میں یہ مال کی ادائیگی بند کر دی جائے گی۔ کیوں کہ عجمی کفار ان علاقوں پر اپنا تسلط جما لیں گے اور ان اموال کی مسلمانوں تک رسائی روک دیں گے۔ اسی طرح آپ ﷺ یہ خبر بھی دے رہے ہیں کہ مسلمان عنقریب شام کو فتح کر لیں گے اور ان پر بھی ناپ تول کی ایک معین مقدار بطور جزیہ لاگو کر دی جائے گی، جسے وہ مسلمانوں کو ادا کریں گے۔ اسی طرح آپ ﷺ یہ بتا رہے ہیں کہ اس امت کے آخری دور میں ایک خلیفہ ہو گا، جو مال کو لپ بھر بھر کر خرچ کرے گا اور اسے شمار نہیں کرے گا؛ کیوںکہ فتوحات کا دائرہ وسیع ہونے کی وجہ سے مال کی کثرت ہو گی۔ چنانچہ وہ اپنے ہاتھوں سے لوگوں کے سامنے مال ایسے پھینکے گا جیسے مٹی کو ہاتھوں سے پھینکا جاتا ہے۔ راوی حدیث بتا رہے ہیں کہ انہوں نے تابعین میں سے بعض اہل علم سے پوچھا کہ کیا یہ خلیفہ عمر بن عبد العزیز ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ: نہیں۔