نبی کریم ﷺ ہمیں آگاہ کر رہے ہیں کہ آخری زمانے میں ایسی صورتِ حال ہو گی کہ آدمی کا گزر قبر پر سے ہوگا اور جن دنیوی پریشانیوں اور ان گنت فتنوں اور آزمائشوں میں وہ مبتلا ہوگا ان کی وجہ سے مٹی میں لوٹ پوٹ ہو کر یہ تمنا کرے گا کہ وہ اس قبر والے کی جگہ پر ہوتا کیونکہ مرنے والا دنیا کی تھکان اور مشقت سے خلاصی پا گیا ہوتا ہے۔ اس حدیث میں اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ موت کی تمنا کرنی چاہیے بلکہ اس میں تو صرف اس بات کی خبر دی گئی ہے جو آخرے زمانے میں واقع ہوگی۔