جب میت کو دفنایا جاتا ہے تو دو سیاہ رنگ کے نیلی آنکھوں والے فرشتے آتے ہیں۔ ان میں سے ایک کا نام منکر اور دوسرے کا نام نکیر ہے۔ وہ اسے کہتے ہیں: اس شخص کے بارے تو کیا کہا کرتا تھا؟ در اصل ان کی مراد نبی ﷺ ہوتے ہیں۔ وہ شخص کہتا ہے: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس پر وہ کہتے ہیں کہ ہمیں علم تھا کہ تو ایسا ہی کہے گا۔ پھر اس کی قبر ہر طرف سے ستر سترگز کشادہ کر دی جاتی ہے اور اسے منور کر دیا جاتا ہے۔ پھر اسے کہا جاتا ہے کہ سوجا۔ وہ کہتا ہے: میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس واپس جا کر انہیں اپنی اس خوش حالی کی خبر دے دوں؛ تاکہ وہ اس سے خوش ہوجائیں اور میرے سلسلے میں کوئ غم نہ کریں۔ اس پر وہ کہیں گے: ایسے سو جا جیسے دلہن سوتی ہے اور اس کے گھر والوں میں سے اس کا محبوب ترین شخص ہی اسے جگاتا ہے۔ اس پر وہ میٹھی نیند سو جاتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تعالی اسے اٹھائیں گے۔ اور اگر وہ شخص منافق ہو تو (دونوں فرشتوں کے سوال کے جواب میں) کہتا ہے: میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا یعنی یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ تو میں نے بھی انہیں کی جیسی بات کہہ دی، میں نہیں جانتا کہ آیا یہ واقعی نبی ہیں یا نہیں۔ اس پر وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ تھا کہ تو ایسا ہی کہے گا۔ پھر زمین کو حکم ہو تا ہے کہ آپس میں مل کر اس پر اکٹھی ہو جا اور اس پر تنگ ہو جا۔ اس کے اعضا اکھٹے ہو کراس کے اندر گھس جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ سختی کے ساتھ بھینچے جانے اور زور سے دباے جانے اور اس کے اعضا کے نچڑ جانے اور ایک پہلو کے دوسرے پہلو تک پہنچ جانے کی وجہ سے اس کی پسلیوں کی ہیئت ہی خراب ہو جاتی ہے۔ یہ اسی طرح عذاب میں مبتلا رہتا ہے، یہاں تک کہ روز قیامت اللہ تعالی اسے اس کی قبر سے اٹھائیں گے۔