”رحم“ یعنی صلہ رحمی کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ یہ نام لفظِ رحمٰن سے لیا گیا ہے۔ یہ حدیث ان احادیثِ صفات میں سے ہے، جن کے بارے میں ائمہ نے یہ واضح کیا ہےکہ یہ جیسے وارد ہوئی ہیں، ویسے ہی نقل کی جائیں اور ان کے مفہوم کی نفی نہ کی جاۓ۔ الحُجزة یہ ان صفات میں سے ہے، جن پر بغیر تحریف، تعطیل اور بغیر کیفیت اور تمثیل کے ایمان لانا ضروری ہے۔ ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ رحم وہ رشتے داری ہے، جس کی حفاظت کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ صلہ رحمی کرنے والے کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہے اور قطع رحمی کرنے والے اور ناطہ توڑنے والے کے ساتھ قطع رحمی کرتا ہے۔ اور جس سے اللہ قطع رحمی کرے، وہ کٹا ہوا ہے، اللہ کے دشمن شیطان مردود کے ساتھ ۔ہے، اگر تمام مخلوق اس کے ساتھ صلہ رحمی کرنا اور فائدہ پہنچانا چاہیں، تو بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔