صحابہ کی ایک جماعت نبی کریم ﷺ کے دروازے کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ ان کا کسی مسئلہ میں اختلاف ہو گیا اور بعض روایات کے مطابق ان کا تقدیر کے کسی مسئلہ پر اختلاف ہوگیا۔ بعض نے اپنے قول پر کتاب اللہ کی آیت کو بطور استدلال پیش کیا اور دوسروں نے اپنے استدلال پر کتاب اللہ کی آیت کو پیش کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ سنا تو غصے کی حالت میں باہر نکلے اور آپ ﷺ کا چہرۂ انور غصے سے سرخ تھا مانو آپ ﷺ کے چہرے پر انار کے دانوں کا جوس نچوڑا دیا گیا ہو۔ آپﷺ نے ان سے فرمایا کہ یہ اختلاف، جھگڑا اور قرآن میں تنازع اور قرآن کے بعض کو بعض سے متنازع کرنا، کیا تمہاری تخلیق کا مقصد یہی ہے؟یا اس کا اللہ نے حکم دیا ہے؟ ان کی مراد یہ تھی کہ ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔ ان کو بتایا کہ سابقہ امتوں کی گمراہی کا سبب بھی اسی طرح کے معاملات تھے۔ پھر ان کی اس طرف رہنمائی فرمائی جس میں ان کی اصلاح اور فائدہ ہے۔ فرمایا کہ جو اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے وہ کرو اور جس سے روکا ہے اس سے باز آ جاؤ۔ یہ کام ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا اور جس میں تمہارے لیے فائدہ اور اصلاح ہے۔