نبی ﷺ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ انہیں قرآن میں سے کچھ پڑھ کر سنائیں۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! میں آپ کو کیسے پڑھ کر سناؤں جب کہ یہ آپ ہی پر نازل ہوا ہے؟! آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اسے اپنے علاوہ کسی اور سے سننا چاہتا ہوں“۔ چنانچہ انہوں نے آپ کے سامنے سورہ نساء کی کچھ آیتیں تلاوت کی، یہاں تک کہ جب وہ اللہ تعالی کے اس فرمان پر پہنچے: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ، وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا}۔ یعنی آپ کا اور آپ کی امت کا کیا حال ہوگا جب ہم آپ کو آپ کی امت پر گواہ بنا کر لائیں گے کہ آپ نے ان تک اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اب تلاوت روک دو۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو اس موقف کی ہیبت اور اپنی امت پر شفقت کے سبب آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔