یزید بن اسود رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی، تو دیکھا کہ لوگ تیزی سے اٹھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ہاتھ پکڑ کر اسے برکت حاصل کرنے کے ارادے سے اپنے چہروں پر پھیرنے لگے۔ چنانچہ انھوں نے بھی آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے چہرے پر پھیرا، تو پایا کہ وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور اس سے مشک سے کہیں بهتر خوشبو پھوٹ رہی تھی۔