ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب آپ ﷺ سے پوچھا کہ کیا اُحُد سے بھی زیادہ سخت دن آپ پر گزرا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں اور طائف کی طرف جانے کا واقعہ ذکر فرمایا۔ کہ جب آپ ﷺ نے مکہ میں قریش کو دعوت دی اور انہوں نے انکار کیا، تو آپ طائف کی طرف نکلے تاکہ ان کو اللہ کا پیغام پہنچائیں، طائف والوں کو دعوت دی لیکن وہ مکہ والوں سے زیادہ بے وقوف نکلے، بلکہ انہوں نے آپ ﷺ کو پتھروں سے مارا اور کنکریاں پھینکیں، یہاں تک کہ آپ کی ایڑی لہو لہان ہو گئی۔ آپ نے قبیلہ ثقیف کے سردار ابن عبد یالیل بن عبد کلال پر اسلام پیش کیا، اس نے اسلام قبول نہیں کیا، آپ ﷺ غمزدہ اور پریشان لوٹے، جب تک آپ قرن الثعالب نہیں پہنچے تھے آپ کو افاقہ نہ ہوا، وہاں بادل نے آپ پر سایہ کیا، آپ نے سر اٹھایا، تو بادل جبرائیل علیہ السلام تھے، جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے کہا، یہ پہاڑوں کا فرشتہ آپ کو سلام کہتا ہے، پھر فرشتے نے سلام کیا اور کہا کہ میرے رب نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، اگر آپ چاہے ان پر دونوں پہاڑوں کو ملا دوں۔آپ ﷺ نے اپنے حلم و بُردباری اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا نہیں۔ اس لیے کہ اگر ان پر دونوں پہاڑوں کو ملایا جاتا تو وہ ہلاک ہوجاتے چنانچہ فرمایا: ”مجھے تو اس کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسی اولاد پیدا کرے گا جو اکیلے اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گی“۔ اور ایسا ہی ہوا، اللہ نے آپ ﷺ کو اتنی سخت تکلیف دینے والے ان مشرکین کی نسلوں میں سے ایسے لوگوں کو پیدا کیا جو ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے۔