اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حدیث میں بتایا ہے کہ جب آپ کھلے عام دین کی دعوت دینے لگے تو اس کی وجہ سے کافروں نے آپ کو ڈرایا اور ستایا اور اس وقت آپ کے ساتھ کوئی نہیں تھا، جو ان اذیتوں کو آپ کے ساتھ جھیلتا۔ ساتھ تھا تو بس اللہ کا اور حمایت تھی تو بس اسی کی اور اس سب کو جھیلنے کی توفیق بھی اسی اللہ کی دی ہوئی تھی۔ پھر بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ آپ کو کھانے پینے کی چیزوں کی کمی اور محتاجی کا بھی سامنا تھا۔ حالت یہ تھی کہ تیس دن اس طرح گزر گئے کہ آپ کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا، سوائے تھوڑی بہت چیز کے جو بلال رضی اللہ عنہ کے پاس رہتی اور جسے وہ اپنی بغل کے نیچے چھپا کر رکھتے، کیوں کہ ان کے پاس کھانا رکھنے کے لیے برتن نہیں تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے، جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مکہ سے بھاگ کر نکلے تھے۔