حدیث کا معنی یہ ہے کہ: سب سے اچھی رفاقت چار افراد کی ہوتی ہے اور سب سے بہتر فوجی دستہ وہ ہے جو چار سو افراد پر مشتمل ہو اور سب سے مفید لشکر وہ ہے جس کی تعداد بارہ ہزار تک پہنچ چکی ہو اور جب فوج کی تعداد بارہ ہزار یا اس سے زیادہ ہو جائے تو اسے شکست نہیں ہوتی اور اگر شکست ہو جائے تو وہ تعداد کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ اس صورت میں شکست کے کچھ اور اسباب ہوتے ہیں جیسے دین کی کمی، تعداد کی کثرت پر اترانا یا گناہوں میں مبتلا ہونا یا پھر اللہ کے لیے اخلاص کا فقدان وغیرہ۔