رسول اللہ ﷺ نے سلمان رضی اللہ عنہ اور ابودرداء رضی اللہ عنہ کے مابین (ہجرت کے بعد) بھائی چارہ قائم کیا۔ ایک مرتبہ سلمان رضی اللہ عنہ، ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لیے گئے۔ تو (ان کی بیوی) ام درداء رضی اللہ عنہا کو ایک شادی شدہ عورت کے لباس میں نہ دیکھا (بہت پراگندہ حال دیکھا)۔ یعنی ان کا لباس خوبصورت نہ تھا تو ان سے اس بات کا سبب پوچھا؟ ام درداء رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ تمہارے بھائی ابودرداء نے دنیا، اہل عیال، کھانے پینے الغرض ہر چیز سے منہ موڑ رکھا ہے۔ پھر ابو درداء رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور سلمان رضی اللہ عنہ کے لیے کھانا حاضر کیا جب کہ وہ خود روزے سے تھے۔ اس پر سلمان رضی اللہ عنہ نے ان کو روزہ توڑنے کا کہا اور ایسا اس لیے کہا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ابو درداء رضی اللہ عنہ ہمیشہ روزے سے رہتے ہیں۔پس وہ روزہ توڑ کر کھانے میں شریک ہو گیے۔ پھر جب رات ہوئی تو ابو درداء رضی اللہ عنہ عبادت کے لیے اٹھے تو سلمان رضی اللہ عنہ نے انہیں منع فرمایا یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ ہوا تو دونوں نے مل کر نماز پڑھی۔ سلمان نے یہ چاہا کہ وہ ابو درداء رضی اللہ عنہ کو سمجھائیں کہ انسان کے لیے روزے اور قیام کی خاطر اپنی جان کو مشقت میں ڈالنا روا نہیں ہے۔ بلکہ اس کو اس طرح نماز اور قیام کا اہتمام کرنا چاہیے کہ ثواب بھی حاصل ہو اور اس کے ذریعے تھکن اور مشقت کا ازالہ بھی ہو۔