تم میں سے جس کسی کو ہم نے کسی کام پر لگایا، مثلا زکاۃ یا غنیمت وغیرہ جمع کرنے میں پر مامور کیا اور اس نے ایک سوئی یا اس سے بھی کوئی چھوٹی شے چھپا لی، تو یہ خیانت ہو گی اور وہ قیامت کے دن اسے لے کر آئے گا۔ اس پر آپ ﷺ کے سامنے ایک انصاری شخص کھڑا ہوا اور اجازت چاہی کہ وہ اس کام سے دست بردار ہو جائے، جس کی ذمے دای آپ ﷺ نے اسے سونپی تھی، تو نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تمھیں کیا ہوا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ سب کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے (اس لیے ڈر لگ رہا ہے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں پھر وہی بات کہتا ہوں کہ ہم تم میں سے جس کو عامل بنائیں، اسے چاہیے کہ وہ کم یا زیادہ سب کچھ لے کر آ جائے۔ پھر اسے جو کچھ بطور اجرت دیا جائے، وہ لے لے اور جو نہ دیا جائے اور وہ اس کا حق بھی نہ ہو، اس کے لینے سے باز رہے۔