ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ لوگ جب سفر میں کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو مختلف گروہوں اور وادیوں میں بکھر جاتے۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تمہارا ان گروہوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے“۔ اس کے بعد جب بھی پڑاؤ ڈالتے تو سب ایک دوسرے سے مل جل کر اکٹھے رہتے۔ صحیح - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
explain-icon

شرح

لوگ جب سفر میں کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو مختلف گروہوں اور وادیوں میں بکھر جاتے ۔ تو نبئ کریم ﷺ نے انھیں بتلایا کہ ان کا یوں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، کہ وہ اللہ کے دوستوں کو ڈرائے اور اس کے دشمنوں کو بھڑکائے پھر اس کے بعد وہ جب بھی کہیں پڑاؤ ڈالتے تو سب ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر اکٹھے رہتے، یہاں تک کہ اگر ان پر چادر ڈال دی جائے تو ان کی شدید قربت کی بناء پر چادر بھی کشادہ ہو جائے۔