نبی ﷺ نے پانی میں پھونک مارنے سے منع فرمایا۔ ایک آدمی نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! بعض اوقات پانی میں کوئی تنکا ہوتا ہے اور اسے نکالنےکے لیے انسان پھونک مارتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: جس پانی میں تنکا وغیرہ ہو، اس میں پھونک نہ مارو؛ بلکہ اسے انڈیل دو۔ اس شخص نے مزید پوچھا کہ وہ اگر ایک سانس میں سیراب نہیں ہوتا، تو پھر کیا کرے؟ اس پر نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ وہ برتن کو اپنے منہ سے ہٹا کر سانس لے اور پھر دوبارہ پی لے۔